49. Al-Hujuraat "The Inner Apartments" — Ayah 13
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَٰكُم مِّن ذَكَرٍۢ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَٰكُمْ شُعُوبًۭا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۭ
O mankind, indeed We have created you from male and female and made you peoples and tribes that you may know one another. Indeed, the most noble of you in the sight of Allah is the most righteous of you. Indeed, Allah is Knowing and Acquainted.
Question

TRASLATE IN URDU

Answer

**اردو ترجمہ**

**آیت 49:13 کا مفہوم اور تفسیر:**

اس آیت میں اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہیں ایک مرد اور ایک عورت (آدم اور حوا) سے پیدا کیا گیا ہے، اور انہیں مختلف قوموں (شُعُوبًا) اور قبیلوں (قَبَآئِلَ) میں تقسیم کیا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ ابن کثیر کے مطابق، "شُعُوبًا" غیر عربوں اور "قَبَآئِلَ" عربوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، یا عام طور پر بڑے اور چھوٹے گروہوں کے لیے۔ اس تقسیم کا مقصد تعارف ہے، نہ کہ فخر یا تفریق۔

آیت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی (أَتْقَىٰكُمْ) ہے۔ ابن کثیر احادیث سے اس کی تائید کرتے ہیں، جیسے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: "اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔" فتح مکہ کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ جاہلیت کی عصبیتیں ختم کر دی گئی ہیں اور لوگ دو قسم کے ہیں: متقی اور نیک جو اللہ کے نزدیک معزز ہیں، اور فاجر و بدبخت جو اللہ کے نزدیک حقیر ہیں۔

**لغوی تحلیل:**

* **شُعُوبًا (قومیں):** "شَعْب" کی جمع ہے، جو بڑے انسانی گروہ یا قوم کو ظاہر کرتا ہے۔

* **قَبَآئِلَ (قبیلے):** "قَبِيلَة" کی جمع ہے، جو نسبی تعلق پر مبنی چھوٹے گروہ کو ظاہر کرتا ہے۔

* **لِتَعَارَفُوا۟ (تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو):** "تعارف" کا مادہ ع-ر-ف ہے، جس کا مطلب جاننا یا پہچاننا ہے۔ یہ باہمی پہچان اور تعلقات قائم کرنے کی حکمت کو بیان کرتا ہے۔

* **أَتْقَىٰكُمْ (تم میں سب سے زیادہ متقی):** "تَقْوَىٰ" سے مشتق ہے، جس کا مطلب اللہ کا خوف، پرہیزگاری اور اس کے احکامات کی پابندی ہے۔ یہ فضیلت کا معیار ہے۔

**خلاصہ:**

آیت 49:13 انسانی مساوات کا اعلان کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ رنگ، نسل یا قبیلے کی بنیاد پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اللہ کے نزدیک عزت کا واحد معیار تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ یہ آیت سورہ حجرات کے عمومی اخلاقی تعلیمات کے تناظر میں ہے، جو باہمی احترام اور معاشرتی آداب پر زور دیتی ہے۔

📚 Sources: Classical tafsir (multi-source)